FACEAPP-News 23

”فیس ایپ” استعمال کرنے والے ہو جائیں ہوشیار!

تھوڑے عرصے فیس ایپ اجازت نہ ملنے کے باوجود موبائل فون میں موجود تصاویر تک رسائی حاصل کر سکتی ہے

ان دنوں کئی صارفین سوشل میڈیا پر اپنے بڑھاپے کی تصاویر شئیر کر رہے ہیں، جو ”فیس ایپ” نامی ایک ایپلی کیشن کو استعمال کرتے ہوئے بنائی جاتی ہے۔ حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس فیس بُک ، ٹویٹر اور انسٹاگرام پر صارفین اپنی اپنی تصاویر شئیر کر رہے ہیں، بلکہ کئی مشہور اداکار ، اداکاراؤں اور شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی بھی اس ایپلی کیشن سے تصاویر بنائی گئی ہیں۔
ٹک ٹاک کی طرح اب فیس ایپ نے بھی سوشل میڈیا اور اسمارٹ فون صارفین کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ جبکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس ایپلی کیشن کی مناسبت سے faceappchallenge# کے نام سے ہیش ٹیگ بھی مقبولیت حاصل کر گیا جس کو استعمال کرتے ہوئے صارفین اپنی تصاویر شئیر کرر ہے ہیں۔
تاہم اس ایپلی کیشن کو استعمال کرنے والے پاکستانی صارفین کو خبردار کر دیا گیا ہے کہ وہ اس ایپ کو استعمال نہ کریں، کیونکہ فیس ایپ نامی یہ روسی ایپلی کیشن اجازت نہ ملنے کے باوجود بھی موبائل صارف کی ڈیوائس میں موجود تصاویر تک بآسانی رسائی حاصل کر سکتی ہے۔
ڈیلی میل کے مطابق فیس ایپ کسی بھی صارف کا نام اور دیگر معلومات بغیر کسی تلافی کے استعمال کر سکتی ہے اور صارف اس حوالے سے شکایت بھی نہیں کر سکتا۔
فیس ایپ دراصل وائر لیس لیب نامی کمپنی کی جانب سے بنائی گئی ہے جس کا مرکزی دفتر پیٹرزبرگ میں ہے۔ آئی ٹی ماہرین کے مطابق آپ کی شناخت میں آپ کا چہرہ کافی زیادہ معنی رکھتا ہے لہٰذا اس معاملے میں احتیاط برتیں کہ آپ کس ایپلی کیشن کو اپنی تصاویریا بائیومیٹرک ڈیٹا تک رسائی دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں