arshad malik 30

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو 20 ملین یورو رشوت کی پیشکش کی گئی

احتساب عدالت اسلام آباد کے جج ارشد ملک کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی کا متن سامنے آگیا۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں اہم انکشافات کر دئیے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ارشد ملک نے بیان حلفی میں کہا ہے کہ سماعت کے دوران مجھ سے ملنے کی کوشش کی جاتی رہی16 سال پہلے کی ویڈیو دکھا کر دھمکی دی گئی۔جو ملتان کی ویڈیو تھی۔ویڈیو کے بعد کہا گیا کہ وارن کرتے ہیں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہےکہ دوران سماعت دو شخصیات نے رابطہ کیا اور ناصر جنجوعہ نے 20 ملین یورو رشوت کی پیشکش کی، جس پر انہوں (ارشد ملک) نے کہا وہ اپنے حلف سے غداری نہیں کریں گے، رشوت کی پیشکش ٹھکرانے پر ناصر بٹ نے دھمکیاں دیں، ناصربٹ نے کہا نوازشریف کے مجھ پر بہت احسان ہیں، نوازشریف نے مجھے قتل کے 5 مقدمات میں بچایا، نوازشریف کے لیے کسی بھی حد تک جاؤں گا۔

جج ارشد ملک نے بیان حلفی میں بتایا کہ وہ مئی 2019 کو خاندان کے ساتھ عمرے پر گئے، یکم جون کو ناصر بٹ سے مسجد نبویؐ کے باہر ملاقات ہوئی، ناصر بٹ نے وڈیو کا حوالہ دے کر بلیک میل کیا۔

بیان حلفی کے مطابق انہیں (ارشد ملک) کو حسین نواز سے ملاقات کرنے پر اصرار کیا گیا جس پر انہوں نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، حسین نواز نے 50 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی، پورے خاندان کو یوکے، کینیڈا یا مرضی کے کسی اور ملک میں سیٹل کرانے کا کہا گیا، بچوں کیلئے ملازمت اور انہیں منافع بخش کاروبار کرانے کی بھی پیشکش کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں