United-Nations-Reuters 51

سلامتی کونسل کا مسئلہ کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ تسلیم کرنے سے انکار

پاکستان کی خصوصی درخواست پر بلائے گئے اجلاس میں مستقل اور غیر مستقل اراکین نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کو تشویش ناک قرار دیا اور مسئلے کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کرنے، یکطرفہ فیصلے کرنے سے گریز کرنے پر زور دیا۔

اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 اراکین ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر غور کیا گیا اور امن مبصرین نے لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خط کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بند کمرے میں ہونے والے اجلاس میں جموں و کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مندوبین نے اپنی آراء کا اظہار کیا۔

اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس اجلاس کا خیر مقدم کرتا ہے۔

ہم جموں کشمیر کے مسئلے کا پُرامن حل چاہتے ہیں۔اجلاس پاکستانی وزیر خارجہ کے خط پر طلب کیا گیا۔ نہتے کشمیریوں کی آواز آج دنیا کے اعلیٰ ترین فورم پر سنی گئی ہے۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں لوگوں پر ظلم و جبر کیا جا رہا ہے۔ کشمیریوں کو قید کیا جا سکتا ہے ان کی آواز نہیں دبائی جا سکتی۔ پاکستان نے یہ کوشش مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کیلئے کی ہے اور یہ مسئلے کے حل تک جاری رہے گی۔

واضح رہے کہ 5 دہائیوں میں پہلی بار مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر آیا ہے۔ اس سے قبل سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر آخری بار 1971ء میں زیر بحث آیا تھا۔

اجلاس کی کاروائی کے حوالے سے چینی مندوب نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے15اراکین ممالک کےمندوب نے اجلاس میں شرکت کی۔ سیکیورٹی کونسل اجلاس میں کشمیر کےمعاملے پر تفصیلی بات ہوئی۔ کشمیر کی صورتحال پر ارکان نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس حوالے سے سیکیورٹی جنرل اقوام متحدہ نے بھی کچھ دن پہلے بیان دیا تھا۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ارکان نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور دو طرفہ معاہدہ کے تحت حل ہونا چاہیے۔ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اس حوالے سے یکطرفہ فیصلوں سے گریز کرنا چاہیئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں