rajnath-singh 25

بھارت کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل دنیا کا امن خطرے میں ڈالنے کی دھمکی

اسلام آباد: کشمیر کے معاملے میں سفارتی ، سیاسی اور دفاعی محاذوں پر بے پناہ ذلت و رُسوائی سمیٹنے کے بعد بھارتی سرکار بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی۔ بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے آج اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے یہ گیدڑ بھبکی دی ہے کہ بھارت حالات کو دیکھتے ہوئے ایٹمی حملہ میں پہل نہ کرنے کی اپنی پالیسی پر غور کر رہا ہے۔
راجناتھ سنگھ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ جوہری حملے میں پہل نہ کرنے کے ڈاکٹرائن پر قائم ہیں گاتاہم مستقبل کا فیصلہ حالات دیکھ کر کریں گے۔بھارتی وزیر دفاع کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اس وقت کشمیر نیوکلیئر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع کے اس اشتعال انگیز بیان کے لیے عالمی امن کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت کی ہندو متعصب سرکار نے ہندو راج کے عزائم کی تکمیل کے لیے پورے برصغیر کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ پوکھران وہ علاقہ ہے جس نے بھارت کو ایٹمی طاقت بنایا۔ پوکھران کا ایٹمی دھماکہ اٹل بہاری واجپائی کے جوہری عزائم کا عکاس ہے۔ بھارتی وزیر دفاع کے اس ٹویٹر بیان کو دُنیا بھر میں بہت تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے دُنیا بھر کے تھِنک ٹینکس کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ بھارت خطے کا امن و امان تباہ کرنے پر تُل گیا ہے۔


واضح رہے کہ 1998میں بھی پوکھران میں ایٹمی دھماکے کرنے کے بعداس وقت کی واجپائی سرکار نے پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کی دھمکیاں دی تھیں۔تاہم پاکستان کی جانب سے جواباً سات ایٹمی دھماکوں کے بعد بھارتی سرکار کو سانپ سُونگھ گیا تھا اور پاکستان کو ملیامیٹ کرنے کے بلند و بانگ دعوے ایک مستقل شرمندگی اور خاموشی میں بدل گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں