south-africa-president-zoma-latest-news 46

جنوبی افریقا کے سابق صدر زوما نے اپنے اوپر کرپشن کے الزامات کو مسترد کردیا

جنوبی افریقا کے سابق صدر جیکب زوما نے اپنے اوپر کرپشن کے الزامات کو مسترد کردیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق جیکب زوما نے تحقیقات کرنے والے جج کے سامنے پیش ہوکر اپنے اوپر کرپشن کے الزامات کو سازش قرار دیتےہوئے کہا کہ اس کا مقصد انہیں سیاسی منظر نامے سے ہٹانا تھا۔

جنوبی افریقا کے سابق صدر پر ان کے دور حکومت میں کرپشن کے بڑے اسکینڈلز کی نگرانی کرنے کا الزام ہے اور انہیں فروری 2018 میں مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا جس کے بعد پہلی مرتبہ وہ انکوائری میں پیش ہوئے۔

انکوائری میں پیش ہونےکے موقع پر ان کے حامیوں کی بڑی تعداد عمارت کے باہر موجود تھ جس نے سابق صدر کی آمد پر ان سے اظہار یکجہتی کیا۔

سابق صدر جیکب زوما کو ان کے اس وقت کے نائب سرل رامافوسا نے تبدیل کیا، سرل نے ملک میں کرپشن کو قابو کرنے کا وعدہ کیا جب کہ سابق صدر سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ زوما نے اپنے دفتر میں 9 سال ضائع کیے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جیکب زوما پر کابینہ میں تقرریوں میں اثرو رسوخ استعمال کرنے اور کرپشن کے ذریعے سرکاری ٹینڈرز حاصل کرنے والی متنازع گپتا فیملی سے تعلقات کا الزام ہے۔

اس کے علاوہ سابق صدر پر واٹسن فیملی کی بوساسا لاجسٹک فرم سے بھی رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

جیکب زوما نے بیرونی انٹیلی جنسی ایجنسیوں پر الزام عائد کیا اور کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ اس سب کے پیچھے انہیں اقتدار سے ہٹانے کی طویل خفیہ منصوبہ بندی ہے۔

جنوبی افریقا کے سابق صدر کا جج کے سامنے کہنا تھا کہ ان پر کرپٹ لوگوں کا بادشاہ کا الزام لگاکر بدنام کیا گیا ہے۔

جیکب زوما نے اپنے اوپر لگے ان الزامات پر اعتراض کیا جس میں ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے گپتا فیملی کو ملک کو قابو کرنے اور اس کی بولی لگانے کی اجازت دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں