nawaz and mariyam sharif 38

نواز شریف کیس کا فیصلہ کسی کے دباو میں نہی، خدا کو حاضر ناظر جان کر اور شواہد کی بنیاد پر دیا، جج ارشد ملک

اسلام آباد: احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کیس کا فیصلہ میں نے خدا کو حاضر ناظر جان کر اور قانون و شواہد کی بنیاد پر دیا۔

Nawaz Sharif

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے حوالے سے رجسٹرار احتساب کورٹ نے جج ارشد ملک کا بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ مجھ پر بلواسطہ یا بلا واسطہ کوئی دباؤ نہیں تھا، کوئی لالچ بھی پیش نظر نہیں تھی جب کہ میں نے یہ فیصلے خدا کو حاضر ناظر جان کر قانون و شواہد کی بنیاد پر دیا۔

جج ارشد ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ پریس کانفرنس کے ذریعے مجھ پر سنگین الزامات لگا کر میرے خلاف ساز ش کی گئی، الزامات لگا کر میرے ادارے، میری ذات اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی سازش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز صاحبہ کی پریس کانفرنس میں دکھائی جانے والی ویڈیوز حقائق کے برعکس ہیں، ویڈیوز میں مختلف مواقع اور موضوعات پر کی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر سیاق وسباق سے ہٹا کر پیش کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔
احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کا کہنا ہے کہ میں راولپنڈی کارہائشی ہوں جہاں میں جج بننے سے پہلے وکالت کرتارہاہوں، ویڈیوز میں دکھائے گئے کردار ناصر بٹ کاتعلق بھی اسی شہر سے ہے، میر ی ناصر بٹ سے پرانی شناسائی ہے، ناصر بٹ اور اس کا بھائی عبداللہ بٹ عرصہ دراز سے مختلف اوقات میں مجھ سے بے شمار دفعہ مل چکے ہیں، مریم نواز کی پریس کانفرنس کے بعد یہ ضروری ہے کہ سچ منظر عام پر لایاجائے۔

جج ارشد ملک نے بیان میں کہا کہ نوازشریف صاحب اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کی سماعت دوران مجھے ان کے نمائندوں کی طرف سے رشوت کی پیش کش کی گئی، مجھے تعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں، دھمکیوں کو میں نے سختی سے ردکرتے ہوئے حق پر قائم رہنے کاعزم کیا۔
احتساب عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے جان ومال کو اللہ کے سپرد کردیا ، میں نے اگر دباؤ یارشوت کے لالچ میں فیصلہ سنانا ہوتا تو ایک مقدمہ میں سزا اور دوسرے میں بری نہ کرتا، میں نے انصاف کرتے ہوئے شواہد کی بنا پر نوازشریف صاحب کو العزیزیہ کیس میں سزا سنائی اور فلیگ شپ کیس میں بری کیا، یہ پریس کانفرنس محض میرے فیصلوں کو متنازع بنانے اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے کی گئی لہذا اس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں